دل بہاران چمن کا ہے گرفتار ہنوز

دیوان پنجم غزل 1627
کب سے قیدی ہیں پہ ہے نالش بسیار ہنوز
دل بہاران چمن کا ہے گرفتار ہنوز
وہ مہ چاردہ اس شہر سے کب کا نکلا
ہر گلی جھانکتے پھرتے ہیں طلبگار ہنوز
بالا بالا ہی بہت عشق میں مارے گئے یار
وہ تہ دل سے کسو کا نہ ہوا یار ہنوز
سال میں ابر بہاری کہیں آ کر برسا
لوہو برسا رہے ہیں دیدۂ خونبار ہنوز
اب کے بالیدن گلہا تھا بہت دیکھو نہ میر
ہمسر لالہ ہے خار سر دیوار ہنوز
میر تقی میر