دلیل اس کی نمایاں ہے مری آنکھیں ہیں خوں بستہ

دیوان اول غزل 420
جگر لوہو کو ترسے ہے میں سچ کہتا ہوں دل خستہ
دلیل اس کی نمایاں ہے مری آنکھیں ہیں خوں بستہ
چمن میں دل خراش آواز آتی ہے چلی شاید
پس دیوار گلشن نالہ کش ہے کوئی پر بستہ
جگر سوزاں و دل بریاں برہنہ پا و سرقرباں
تجاوز کیا کروں اس سے کہ ان ہی کا ہوں وابستہ
ترے کوچے میں یکسر عاشقوں کے خارمژگاں ہیں
جو تو گھر سے کبھو نکلے تو رکھیو پائوں آہستہ
مرے آگے نہیں ہنستا تو آ اک صلح کرتا ہوں
بھلا میں روئوں دو دریا تبسم کر تو یک پستہ
تعجب ہے مجھے یہ سرو کو آزاد کہتے ہیں
سراپا دل کی صورت جس کی ہو وہ کیا ہو وارستہ
تری گل گشت کی خاطر بنا ہے باغ داغوں سے
پرطائوس سینہ ہے تمامی دست گلدستہ
بجا ہے گر فلک پر فخر سے پھینکے کلاہ اپنی
کہے جو اس زمیں میں میر یک مصراع برجستہ
میر تقی میر