دریا کا پھیر پایئے تیرا نہ پایئے

دیوان دوم غزل 1016
گرداب وار یار ترے صدقے جایئے
دریا کا پھیر پایئے تیرا نہ پایئے
سر مار مار بیٹھے تلف ہوجے کب تلک
ٹک اٹھ کے اب نصیبوں کو بھی آزمایئے
سو شکل سے ہم آئے گئے تیری بزم میں
طنزاً کہا نہ تو نے کبھو یوں کہ آیئے
آئے ہیں تنگ جان سے قیدحیات میں
اس بند سے ہمارے تئیں اب چھڑایئے
کہنے لگا کہ ٹیڑھے بہت ہو رہے ہو تم
دو چار سیدھی سیدھی تمھیں بھی سنایئے
ہے عزم جزم ترک و تجرد کا گر بنے
کیا اس جہان سفلہ سے دل کو لگایئے
تاثیر ہے دعا کو فقیروں کی میرجی
ٹک آپ بھی ہمارے لیے ہاتھ اٹھایئے
میر تقی میر