درویشی و کم پائی بے صبری و تنہائی

دیوان چہارم غزل 1525
میں اس کی جدائی میں تصدیع بہت پائی
درویشی و کم پائی بے صبری و تنہائی
اس رفتہ کی جاں بخشی ٹک آتے ہوئی اس کے
رکھتے ہی قدم مجھ میں پھر جان گئی آئی
تھا صبر و سکوں جب تک رہتا تھا مجھے غش سا
بیتابی دل سر پر ایک اور بلا لائی
اس میری جراحت پر کل داور محشر بھی
ڈرتا ہوں کہے ریجھا کیا تیغ ستم کھائی
اے میر کسے دیں ہیں جب تک نہ نصیبہ ہو
کر شکر ملی ہے جو اس در کی جبیں سائی
میر تقی میر