دروں میں آگ اک لگا گیا ہے بروں کو یکسر جلا گیا ہے

دیوان چہارم غزل 1512
کہو سو کریے فراق اس کا تو جی کو میرے کھپا گیا ہے
دروں میں آگ اک لگا گیا ہے بروں کو یکسر جلا گیا ہے
اگرچہ مارا بگڑ کے مجھ کو و لیک لطف و کرم سے پھر بھی
نشان میرے مزار کا وہ سررہ اپنی بنا گیا ہے
خرام شوخی کے ہمرہ اس کے ہزار جانیں چلی گئی ہیں
رکھا ہے رہ میں قدم جو ان نے تو میر کس سے رہا گیا ہے
میر تقی میر