درد و الم ہے کلفت و غم ہے رنج و بلا ہے کیا کیا کچھ

دیوان چہارم غزل 1486
چاہ میں دل پر ظلم و ستم ہے جور و جفا ہے کیا کیا کچھ
درد و الم ہے کلفت و غم ہے رنج و بلا ہے کیا کیا کچھ
عاشق کے مر جانے کے اسباب بہت رسوائی میں
دل بھی لگا ہے شرم و حیا ہے مہر و وفا ہے کیا کیا کچھ
عشق نے دے کر آگ یکایک شہر تن کو پھونک دیا
دل تو جلا ہے دماغ جلا ہے اور جلا ہے کیا کیا کچھ
دل لینے کو فریفتہ کے بہتیرا کچھ ہے یار کنے
غمزہ عشوہ چشمک چتون ناز و ادا ہے کیا کیا کچھ
کیا کیا دیدہ درائی سی تم کرتے رہے اس عالم میں
تم سے آگے سنو ہو صاحب نہیں ہوا ہے کیا کیا کچھ
حسرت وصل اندوہ جدائی خواہش کاوش ذوق و شوق
یوں تو چلا ہوں اکیلا لیکن ساتھ چلا ہے کیا کیا کچھ
کیا کہیے جب میں نے کہا ہے میر ہے مغرور اس پر تو
اپنی زباں مت کھول تو ان نے اور کہا ہے کیا کیا کچھ
میر تقی میر