درد آگیں انداز کی باتیں اکثر پڑھ پڑھ رووے گا

دیوان پنجم غزل 1551
بعد ہمارے اس فن کا جو کوئی ماہر ہووے گا
درد آگیں انداز کی باتیں اکثر پڑھ پڑھ رووے گا
چشم تماشا وا ہووے تو دیکھا بھالی غنیمت ہے
مت موندے آنکھوں کو غافل دیر تلک پھر سووے گا
جست و جو بھی اس کی کریے جس کا نشاں کچھ پیدا ہو
پانا اس کا میر ہے مشکل جی تو یوں ہی کھووے گا
میر تقی میر