دامن پکڑ کے یار کا جو ٹک نہ رو سکے

دیوان اول غزل 588
کیا غم میں ویسے خاک فتادہ سے ہوسکے
دامن پکڑ کے یار کا جو ٹک نہ رو سکے
ہم ساری ساری رات رہے گریہ ناک لیک
مانند شمع داغ جگر کا نہ دھو سکے
رونا تو ابر کا سا نہیں یار جانتے
اتنا تو رویئے کہ جہاں کو ڈبو سکے
تیغ برہنہ کف میں وہ بیدادگر ہے آج
ہے مفت وقت اس کو جو کوئی جان کھو سکے
برسوں ہی منتظر سر رہ پر ہمیں ہوئے
اس قسم کا تو صبر کسو سے نہ ہوسکے
رہتی ہے ساری رات مرے دم سے چہل میر
نالہ رہے تو کوئی محلے میں سو سکے
میر تقی میر