دامن تر کا مرے دریا ہی کا سا پھیر تھا

دیوان اول غزل 4
جامۂ مستی عشق اپنا مگر کم گھیر تھا
دامن تر کا مرے دریا ہی کا سا پھیر تھا
دیر میں کعبے گیا میں خانقہ سے اب کی بار
راہ سے میخانے کی اس راہ میں کچھ پھیر تھا
بلبلوں نے کیا گل افشاں میر کا مرقد کیا
دور سے آیا نظر تو پھولوں کا اک ڈھیر تھا
میر تقی میر