داغ سے تن گلزار کیا سب آنکھوں کو خونبار کیا

دیوان چہارم غزل 1346
زار کیا بیمار کیا اس دل نے کیا آزار کیا
داغ سے تن گلزار کیا سب آنکھوں کو خونبار کیا
جرم ہے ہم الفت کشتوں کا لگ پڑنے سے شوخ ہوا
اب کہتے ہیں دل میں اپنے ہم نے اسے کیوں پیار کیا
چاہا ہم نے کیا کیا تھا پر اپنا چاہا کچھ نہ ہوا
عزت کھوئی ذلت کھینچی عشق نے خوار و زار کیا
پیش گئی کب پیش زمانہ طبع خشن ہر ناکس کی
اک گردش میں سپہر نے جیسے سطح زمیں ہموار کیا
سادگی میری آہ نہ جانا جی ہی اس میں جاتا ہے
عشق کا اس پرکار کے میں نے لوگوں میں اقرار کیا
میر تقی میر