خوں بستہ رہتیاں تھیں پلکیں سو اب ہیں تر سب

دیوان پنجم غزل 1575
دل خوں ہوا تھا یکسر پانی ہوا جگر سب
خوں بستہ رہتیاں تھیں پلکیں سو اب ہیں تر سب
یارب کدھر گئے وے جو آدمی روش تھے
اوجڑ دکھائی دے ہیں شہر و دہ و نگر سب
حرف وسخن سے مطلق یاں گفتگو نہیں ہے
پیادے سوار ہم کو آئے نظر نفر سب
عالم کے لوگوں کا ہے تصویر کا سا عالم
ظاہر کھلی ہیں آنکھیں لیکن ہیں بے خبر سب
میر اس خرابے میں کیا آباد ہووے کوئی
دیوار و در گرے ہیں ویراں پڑے ہیں گھر سب
میر تقی میر