خون ہو بہ سب آپھی گیا عشق حسن و جمال کیا

دیوان اول غزل 41
دل سمجھا نہ محبت کو کچھ ان نے کیا یہ خیال کیا
خون ہو بہ سب آپھی گیا عشق حسن و جمال کیا
آنکھیں کفک سے اس کی لگاکر خاک برابر ہم بھی ہوئے
مہندی کے رنگ ان پائوں نے تو بہتوں کو پامال کیا
یوں نکلے ہے فلک ایدھر سے نازکناں جو جاتے تو
خاک سے سبزہ میری اگاکر ان نے مجھ کو نہال کیا
آگے جواب سے ان لوگوں کے بارے معافی اپنی ہوئی
ہم بھی فقیر ہوئے تھے لیکن ہم نے ترک سوال کیا
حال نہیں ہے عشق سے مجھ میں کس سے میر ؔاب حال کہوں
آپھی چاہ کر اس ظالم کو یہ اپنا میں حال کیا
میر تقی میر