خون کسو کا کوئی کرے واں داد نہیں فریاد نہیں

دیوان پنجم غزل 1700
حاکم شہر حسن کے ظالم کیونکے ستم ایجاد نہیں
خون کسو کا کوئی کرے واں داد نہیں فریاد نہیں
یاری ہماری یک باری خاطر سے فراموش ان نے کی
ذکر ہمارا اس سے کیا سو کہنے لگا کچھ یاد نہیں
کیا کیا مردم خوش ظاہر ہیں عالم حسن میں نام خدا
عالم عشق خرابہ ہے واں کوئی گھر آباد نہیں
عشق کوئی ہمدرد کہیں مدت میں پیدا کرتا ہے
کوہ رہیں گو نالاں برسوں لیکن اب فرہاد نہیں
لڑنا کاواکی سے فلک کا پیش پا افتادہ ہے
میر طلسم غبار جو یہ ہے کچھ اس کی بنیاد نہیں
میر تقی میر