خون دل ہی کا اب مزہ چکھیے

دیوان اول غزل 634
راہ آنسو کی کب تلک تکیے
خون دل ہی کا اب مزہ چکھیے
آتش غم میں جل رہے ہیں ہما
چشم مجھ استخواں پہ مت رکھیے
سو گیا وہ سمجھ کے افسانہ
درد دل اب کہاں تلک بکیے
بید سا کانپتا تھا مرتے وقت
میر کو رکھیو مجنوں کے تکیے
میر تقی میر