خوشا ہم جو نہ رکھے ہم کو ناخوش

دیوان سوم غزل 1145
طرح خوش ناز خوش اس کی ادا خوش
خوشا ہم جو نہ رکھے ہم کو ناخوش
نہیں ناساز فقر اپنا کسو کا
خرابے کی ہمارے ہے ہوا خوش
بتوں کے غم میں نالاں جب نہ تب ہوں
نہ راضی خلق مجھ سے نے خدا خوش
کلی رکتی ہے گل ہے دل پریشاں
کسو کی اس چمن میں گذرے کیا خوش
جہان تنگ کڑھنے ہی کی جا تھی
کوئی دن میں تکلف سے رہا خوش
رہا پھولوں میں کرتا زمزمہ میں
مری اس باغ میں گذری سدا خوش
گیا اس شہر ہی سے میر آخر
تمھاری طرز بد سے کچھ نہ تھا خوش
میر تقی میر