خوبی رہا کرے ہے مری جان کیا ہمیش

دیوان دوم غزل 828
ہم پر روا جو رکھتے ہو جور و جفا ہمیش
خوبی رہا کرے ہے مری جان کیا ہمیش
کس اعتبار دل کے تئیں گل کہیں ہیں لوگ
مجھ پاس تو مندی ہی کلی سا رہا ہمیش
کچھ عہد میں ہمارے محبت ہوئی ہے ننگ
آپس میں ورنہ رسم تھی مہر و وفا ہمیش
فرصت مرض سے دل کے ہمیں کب ہوئی تنک
تھوڑی بہت چلی ہی گئی ہے دوا ہمیش
اب عید بھی بغیر ملے اس کے ہے دہا
رہتا تھا جو ہمارے گلے ہی لگا ہمیش
ہم تو جو رفتنی ہیں ملے ہی رہیں تو خوب
رہتا نہیں ہے کوئی بغیر از خدا ہمیش
واقف نہیں ہوں میر سے تو پر تمام شب
کرتا ہے شور آن کے اک بے نوا ہمیش
میر تقی میر