خوبرو کس کی بات مانے ہیں

دیوان دوم غزل 882
کرتے ہیں جوکہ جی میں ٹھانے ہیں
خوبرو کس کی بات مانے ہیں
میں تو خوباں کو جانتا ہی ہوں
پر مجھے یہ بھی خوب جانے ہیں
جا ہمیں اس گلی میں گر رہنا
ضعف و بے طاقتی بہانے ہیں
پوچھ اہل طرب سے شوق اپنا
وے ہی جانیں جو خاک چھانے ہیں
اب تو افسردگی ہی ہے ہر آن
وے نہ ہم ہیں نہ وے زمانے ہیں
قیس و فرہاد کے وہ عشق کے شور
اب مرے عہد میں فسانے ہیں
دل پریشاں ہوں میں تو خوش وے لوگ
عشق میں جن کے جی ٹھکانے ہیں
مشک و سنبل کہاں وہ زلف کہاں
شاعروں کے یہ شاخسانے ہیں
عشق کرتے ہیں اس پری رو سے
میر صاحب بھی کیا دوانے ہیں
میر تقی میر