خمیازہ کش جو ہوں گے ملنے کے کیا کریں گے

دیوان اول غزل 522
بند قبا کو خوباں جس وقت وا کریں گے
خمیازہ کش جو ہوں گے ملنے کے کیا کریں گے
رونا یہی ہے مجھ کو تیری جفا سے ہر دم
یہ دل دماغ دونوں کب تک وفا کریں گے
ہے دین سر کا دینا گردن پہ اپنی خوباں
جیتے ہیں تو تمھارا یہ قرض ادا کریں گے
درویش ہیں ہم آخر دو اک نگہ کی رخصت
گوشے میں بیٹھے پیارے تم کو دعا کریں گے
آخر تو روزے آئے دو چار روز ہم بھی
ترسابچوں میں جا کر دارو پیا کریں گے
کچھ تو کہے گا ہم کو خاموش دیکھ کر وہ
اس بات کے لیے اب چپ ہی رہا کریں گے
عالم مرے ہے تجھ پر آئی اگر قیامت
تیری گلی کے ہر سو محشر ہوا کریں گے
دامان دشت سوکھا ابروں کی بے تہی سے
جنگل میں رونے کو اب ہم بھی چلا کریں گے
لائی تری گلی تک آوارگی ہماری
ذلت کی اپنی اب ہم عزت کیا کریں گے
احوال میر کیونکر آخر ہو ایک شب میں
اک عمر ہم یہ قصہ تم سے کہا کریں گے
میر تقی میر