خموش دیکھتے رہتے ہیں اس کے رو کو ہم

دیوان چہارم غزل 1440
تجا ہے حیرت عشقی سے گفتگو کو ہم
خموش دیکھتے رہتے ہیں اس کے رو کو ہم
اگرچہ وصل ہے پر ہیں طلب میں سرگرداں
پہ وہم کار ہی جاتے ہیں جستجو کو ہم
اب اپنی جان سے ہیں تنگ دم رکا ہے بہت
ملا ہی دیں گے تری تیغ سے گلو کو ہم
جلا کے خاک کرے وہ کہ رہ کے داغ کرے
لگا دیں آگ سے کیا اپنی گرم خو کو ہم
مرید پیر خرابات یوں نہ ہوتے میر
سمجھتے عارف اگر اور بھی کسو کو ہم
میر تقی میر