خدا شاہد ہے اپنا تو کلیجا ٹوٹ جاتا ہے

دیوان دوم غزل 1021
کبھو میر اس طرف آکر جو چھاتی کوٹ جاتا ہے
خدا شاہد ہے اپنا تو کلیجا ٹوٹ جاتا ہے
خرابی دل کی کیا انبوہ درد و غم سے پوچھو ہو
وہی حالت ہے جیسے شہر لشکر لوٹ جاتا ہے
شکست اس رنگ آئی بے خودی عشق میں دل پر
نشے میں مست سے جیسے کہ شیشہ پھوٹ جاتا ہے
نہ یوں ہووے کہ اٹھ جائوں کہ ہے افسوس کی جاگہ
جب ایسا طائر خوش لہجہ پھنس کر چھوٹ جاتا ہے
نہیں کچھ عقل میں آتا کہ دیوانہ سا میر ایدھر
کبھو آتا جو ہے کیدھر کو مارے زوٹ جاتا ہے
میر تقی میر