خاک اڑاتے کہاں تک پھریے چہرہ سب ہے گردآلود

دیوان پنجم غزل 1606
کچھ تدبیر بتائو ہم کو دل اپنا ہے دردآلود
خاک اڑاتے کہاں تک پھریے چہرہ سب ہے گردآلود
میر تقی میر