خاک افتادہ ہوں میں بھی اک فقیر اللہ کا

دیوان اول غزل 35
مت ہو دشمن اے فلک مجھ پائمال راہ کا
خاک افتادہ ہوں میں بھی اک فقیر اللہ کا
سینکڑوں طرحیں نکالیں یار کے آنے کی لیک
عذر ہی جا ہے چلا اس کے دل ناخواہ کا
گر کوئی پیرمغاں مجھ کو کرے تو دیکھے پھر
میکدہ سارے کا سارا صرف ہے اللہ کا
کاش تیرے غم رسیدوں کو بلاویں حشر میں
ظلم ہے یک خلق پرآشوب ان کی آہ کا
جو سنا ہشیار اس میخانے میں تھا بے خبر
شوق ہی باقی رہا ہم کو دل آگاہ کا
باندھ مت رونے کا تار اے ناقباحت فہم چشم
اس سے پایا جائے ہے سر رشتہ جی کی چاہ کا
شیخ مت کر ذکر ہر ساعت قیامت کا کہ ہے
عرصۂ محشر نمونہ اس کی بازی گاہ کا
شہر میں کس منھ سے آوے سامنے تیرے کہ شوخ
جھائیوں سے بھر رہا ہے سارا چہرہ ماہ کا
سرفرو لاتی نہیں ہمت مری ہر اک کے پاس
ہوں گداے آستاں میں میر حضرت شاہ کا
میر تقی میر