خانہ خراب ہوجیو آئینہ ساز کا

دیوان دوم غزل 681
دیکھ آرسی کو یار ہوا محو ناز کا
خانہ خراب ہوجیو آئینہ ساز کا
ہوتا ہے کون دست بسر واں غرور سے
گالی ہے اب جواب سلام نیاز کا
ہم تو سمند ناز کے پامال ہوچکے
اس کو وہی ہے شوق ابھی ترک تاز کا
ہے کیمیاگران محبت میں قدر خاک
پر وقر کچھ نہیں ہے دل بے گداز کا
اس لطف سے نہ غنچۂ نرگس کھلا کبھو
کھلنا تو دیکھ اس مژئہ نیم باز کا
کوتاہ تھا فسانہ جو مرجاتے ہم شتاب
جی پر وبال سب ہے یہ عمر دراز کا
مارا نہ اپنے ہاتھ سے مجھ کو ہزار حیف
کشتہ ہوں یار میں تو ترے امتیاز کا
ہلتی ہے یوں پلک کہ گڑی دل میں جائے ہے
انداز دیدنی ہے مرے دل نواز کا
پھر میر آج مسجد جامع کے تھے امام
داغ شراب دھوتے تھے کل جانماز کا
میر تقی میر