خاموش ان لبوں سے کوئی بات ہو تو ہو

دیوان پنجم غزل 1716
راہیں رکے پر اس سے ملاقات ہو تو ہو
خاموش ان لبوں سے کوئی بات ہو تو ہو
رنج و عنا کہ دشمن جان عزیز ہیں
ان سے بچائو اس کی عنایات ہو تو ہو
نومید وصل دل نہیں شب ہاے ہجر میں
ان راتوں ہی میں ملنے کی بھی بات ہو تو ہو
امید ہے کہ اس سے قیامت کو پھر ملوں
حسن عمل کی واں بھی مکافات ہو تو ہو
تخفیفے شملے پیرہن و کنگھی اور کلاہ
شیخوں کی گاہ ان میں کرامات ہو تو ہو
ساقی کو چشم مست سے اودھر ہی دیکھنا
مسجد ہو یا کہ کعبہ خرابات ہو تو ہو
منکر نہیں ہے کوئی سیادت کا میر کی
ذات مقدس ان کی یہی ذات ہو تو ہو
میر تقی میر