حال کچھ بھی تجھ میں ہے اے میر اپنا حال دیکھ

دیوان سوم غزل 1245
جانے دے مت اس قدر اب زلف و خط و خال دیکھ
حال کچھ بھی تجھ میں ہے اے میر اپنا حال دیکھ
کیا مری طول پریشانی کی حیرت ہم نفس
آنکھیں تو دی ہیں خدا نے اس کے لپٹے بال دیکھ
دامن صحرا میں کیا وسعت ہے جو دل میں نہیں
موند کر آنکھیں گریباں میں بھی ٹک سر ڈال دیکھ
چشم و دل کا اس سے لگ جانا تو تھا جس تس طرح
جی بھی ان بالوں میں الجھا اور یہ جنجال دیکھ
گرچہ اس مہ کی جدائی میں مجھے برسوں ہوئے
لیکن اے اخترشناس اب کا ہے کیسا سال دیکھ
کب نظر میری پڑے گی اس کے روے خوب پر
ہم نشیں ٹک تو بھی مصحف کھول کر تو فال دیکھ
ٹھوکریں دل کو لگے ہیں جب چلے ہے راہ تو
یہ خرام ناز ہے ظالم ٹک اپنی چال دیکھ
میر تقی میر