حال پرسی بھی نہ کی آن کے بیمار کے پاس

دیوان چہارم غزل 1400
مدت ہجر میں کیا کریے بیاں یار کے پاس
حال پرسی بھی نہ کی آن کے بیمار کے پاس
حق یہ ہے خواہش دل ہے مری تو آجاتا
جب کہ خوں ریزی کو بٹھلائیں مجھے دار کے پاس
در اسیری کا کھلا منھ پہ ہمارے کیا تنگ
مر ہی رہیے گا قفس کے در و دیوار کے پاس
آنا اس کا تو دم قتل ضروری ہے ولے
کون آتا ہے کسو خوں کے سزاوار کے پاس
پایئے یار اکیلا تو غم دل کہیے
سو تو بیٹھا ہی اسے پاتے ہیں دوچار کے پاس
منھ پہ ناخن کے خراشوں سے لگا دل بہنے
چشمے نکلے ہیں نئے چشم جگر بار کے پاس
میں تو تلوار تلے اس کے لیے بیٹھا میر
وہ کھڑا بھی نہ ہوا آ کے گنہگار کے پاس
میر تقی میر