جی میں ہم نے یہ کیا ہے اب مقرر ہو سو ہو

دیوان دوم غزل 921
رکھیے گردن کو تری تیغ ستم پر ہو سو ہو
جی میں ہم نے یہ کیا ہے اب مقرر ہو سو ہو
قطرہ قطرہ اشک باری تو کجا پیش سحاب
ایک دن تو ٹوٹ پڑ اے دیدئہ تر ہو سو ہو
بند میں ناز و نعم ہی کے رہے کیونکر فقیر
یہ فضولی ہے فقیری میں میسر ہو سو ہو
آ کے کوچے سے ترے جاتا ہوں کب جوں ابرشب
تیر باراں ہو کہ برسے تیغ یک سر ہو سو ہو
صاحبی کیسی جو تم کو بھی کوئی تم سا ملا
پھر تو خواری بے وقاری بندہ پرور ہو سو ہو
کب تلک فریاد کرتے یوں پھریں اب قصد ہے
داد لیجے اپنی اس ظالم سے اڑ کر ہو سو ہو
بال تیرے سر کے آگے تو جیوں کے ہیں وبال
سر منڈاکر ہم بھی ہوتے ہیں قلندر ہو سو ہو
سختیاں دیکھیں تو ہم سے چند کھنچواتا ہے عشق
دل کو ہم نے بھی کیا ہے اب تو پتھر ہو سو ہو
کہتے ہیں ٹھہرا ہے تیرا اور غیروں کا بگاڑ
ہیں شریک اے میر ہم بھی تیرے بہتر ہو سو ہو
میر تقی میر