جی دینا پڑتا ہے اس میں ایسا نہ ہو پچھتائو تم

دیوان پنجم غزل 1683
ہم نہ کہا کرتے تھے تم سے دل نہ کسو سے لگائو تم
جی دینا پڑتا ہے اس میں ایسا نہ ہو پچھتائو تم
سو نہ سنی تم نے تو ہماری آنکھیں لگو ہیں لگ پڑیاں
رو رو کر سر دھنتے ہو اب بیٹھے رنج اٹھائو تم
صبر کہاں جو تسکیں ہووے بیتابی سے چین کہاں
ایک گھڑی میں سو سو باری اودھر ایدھر جائو تم
خواہش دل ہے چاہ کسو کی یہی سبب ہے کاہش کا
ناحق ناحق کیوں کہتے ہو حق کی طرف دل لائو تم
ہر کوچے میں کھڑے رہ رہ کر ایدھر اودھر دیکھو ہو
ہائے خیال یہ کیا ہے تم کو جانے بھی دو اب آئو تم
فاش نہ کریے راز محبت جانیں اس میں جاتی ہیں
درد دل آنکھوں سے ہر یک کے تا مقدور چھپائو تم
قدر و قیمت اس سے زیادہ میر تمھاری کیا ہو گی
جس کے خواہاں دونوں جہاں ہیں اس کے ہاتھ بکائو تم
میر تقی میر