جی دل کے اضطراب سے بے تاب تھا سو تھا

دیوان سوم غزل 1103
آنکھوں میں اپنی رات کو خوناب تھا سو تھا
جی دل کے اضطراب سے بے تاب تھا سو تھا
آکر کھڑا ہوا تھا بہ صدحسن جلوہ ناک
اپنی نظر میں وہ در نایاب تھا سو تھا
ساون ہرے نہ بھادوں میں ہم سوکھے اہل درد
سبزہ ہماری پلکوں کا سیراب تھا سو تھا
درویش کچھ گھٹا نہ بڑھا ملک شاہ سے
خرقہ کلاہ پاس جو اسباب تھا سو تھا
کیا بھاری بھاری قافلے یاں سے چلے گئے
تجھ کو وہی خیال گراں خواب تھا سو تھا
برسوں سے ہے تلاوت و سجادہ و نماز
پر میل دل جو سوے مئے ناب تھا سو تھا
ہم خشک لب جو روتے رہے جوئیں بہ چلیں
پر میر دشت عشق کا بے آب تھا سو تھا
میر تقی میر