جی الجھتا ہے بہت مت بال سلجھایا کرو

دیوان سوم غزل 1233
سر پہ عاشق کے نہ یہ روز سیہ لایا کرو
جی الجھتا ہے بہت مت بال سلجھایا کرو
تاب مہ کی تاب کب ہے نازکی سے یار کو
چاندنی میں آفتابی کا مگر سایہ کرو
گرچہ شان کفر ارفع ہے ولے اے راہباں
ایک دو ہم سوں کو بھی زنار بندھوایا کرو
شوق سے دیدار کے بھی آنکھوں میں کھنچ آیا جی
اس سمیں میں دیکھنے ہم کو بہت آیا کرو
کوہکن کی ہے قدم گاہ آخر اے اہل وفاق
طوف کرنے بے ستوں کا بھی کبھی جایا کرو
فرق یار و غیر میں بھی اے بتاں کچھ چاہیے
اتنی ہٹ دھرمی بھی کیا انصاف فرمایا کرو
کب میسر اس کے منھ کا دیکھنا آتا ہے میر
پھول گل سے اپنے دل کو تم بھی بہلایا کرو
میر تقی میر