جیے ہیں خدا ہی کی قدرت سے ہم

دیوان دوم غزل 862
موئے جاتے تھے فرط الفت سے ہم
جیے ہیں خدا ہی کی قدرت سے ہم
ترش رو بہت ہے وہ زرگر پسر
پڑے ہیں کھٹائی میں مدت سے ہم
نہیں دیکھتے صبح اب آرسی
خفا رہتے ہیں اپنی صورت سے ہم
جو دیکھو وہ قامت تو معلوم ہو
کہ روکش ہوئے ہیں قیامت سے ہم
نہ ٹک لا سکا تاب جلوے کی دل
گلہ رکھتے ہیں صبر و طاقت سے ہم
نہ مانی کوئی ان نے پھر روٹھ کر
مناتے رہے رات منت سے ہم
خدا سے بھی شب کو دعا مانگتے
نہ اس کا لیا نام غیرت سے ہم
رکھا جس کو آنکھوں میں اک عمر اب
اسے دیکھ رہتے ہیں حسرت سے ہم
بھری آنکھیں لوہو سے رہنے لگیں
یہ رنگ اپنا دیکھا مروت سے ہم
نہ مل میر اب کے امیروں سے تو
ہوئے ہیں فقیر ان کی دولت سے ہم
میر تقی میر