جیسا گیا تھا ویسا ہی چل پھر کے آگیا

دیوان چہارم غزل 1332
مکے گیا مدینے گیا کربلا گیا
جیسا گیا تھا ویسا ہی چل پھر کے آگیا
دیکھا ہو کچھ اس آمدوشد میں تو میں کہوں
خود گم ہوا ہوں بات کی تہ اب جو پا گیا
کپڑے گلے کے میرے نہ ہوں آبدیدہ کیوں
مانند ابر دیدئہ تر اب تو چھا گیا
جاں سوز آہ و نالہ سمجھتا نہیں ہوں میں
یک شعلہ میرے دل سے اٹھا تھا جلا گیا
وہ مجھ سے بھاگتا ہی پھرا کبر و ناز سے
جوں جوں نیاز کرکے میں اس سے لگا گیا
جور سپہر دوں سے برا حال تھا بہت
میں شرم ناکسی سے زمیں میں سما گیا
دیکھا جو راہ جاتے تبختر کے ساتھ اسے
پھر مجھ شکستہ پا سے نہ اک دم رہا گیا
بیٹھا تو بوریے کے تئیں سر پہ رکھ کے میر
صف کس ادب سے ہم فقرا کی اٹھا گیا
میر تقی میر