جگر سب کھا گیا اب کیا رہا ہے

دیوان دوم غزل 1027
دل بیتاب آفت ہے بلا ہے
جگر سب کھا گیا اب کیا رہا ہے
ہمارا تو ہے اصل مدعا تو
خدا جانے ترا کیا مدعا ہے
محبت کشتہ ہیں ہم یاں کسو پاس
ہمارے درد کی بھی کچھ دوا ہے
حرم سے دیر اٹھ جانا نہیں عیب
اگر یاں ہے خدا واں بھی خدا ہے
نہیں ملتا سخن اپنا کسو سے
ہماری گفتگو کا ڈھب جدا ہے
کوئی ہے دل کھنچے جاتے ہیں اودھر
فضولی ہے تجسس یہ کہ کیا ہے
مروں میں اس میں یا رہ جائوں جیتا
یہی شیوہ مرا مہر و وفا ہے
صبا اودھر گل اودھر سرو اودھر
اسی کی باغ میں اب تو ہوا ہے
تماشا کردنی ہے داغ سینہ
یہ پھول اس تختے میں تازہ کھلا ہے
ہزاروں ان نے ایسی کیں ادائیں
قیامت جیسے اک اس کی ادا ہے
جگہ افسوس کی ہے بعد چندے
ابھی تو دل ہمارا بھی بجا ہے
جو چپکے ہوں کہے چپکے ہو کیوں تم
کہو جو کچھ تمھارا مدعا ہے
سخن کریے تو ہووے حرف زن یوں
بس اب منھ موندلے میں نے سنا ہے
کب اس بیگانہ خو کو سمجھے عالم
اگرچہ یار عالم آشنا ہے
نہ عالم میں ہے نے عالم سے باہر
پہ سب عالم سے عالم ہی جدا ہے
لگا میں گرد سر پھرنے تو بولا
تمھارا میر صاحب سرپھرا ہے
میر تقی میر