جو کچھ کہ تم سے ہوسکے تقصیر مت کرو

دیوان اول غزل 413
اس بے گنہ کے قتل میں اب دیر مت کرو
جو کچھ کہ تم سے ہوسکے تقصیر مت کرو
ایفاے عہد قتل تو تم کرکے سچے ہو
اتنے بھی خلف وعدہ سے دلگیر مت کرو
میر تقی میر