جو میں ہر اک مژہ دیکھوں کہ یہ تر ہے کہ یہ نم ہے

دیوان اول غزل 524
توجہ تیری اے حیرت مری آنکھوں پہ کیا کم ہے
جو میں ہر اک مژہ دیکھوں کہ یہ تر ہے کہ یہ نم ہے
کرے ہے مو پریشاں غم وفا تو تعزیہ تو لے
حیا کر حق صحبت کی کہ اس بیکس کا ماتم ہے
دورنگی دہر کی پیدا ہے یاں سے دل اٹھا اپنا
کسو کے گھر میں شادی ہے کہیں ہنگامۂ غم ہے
کہیں آشفتگاں سے میر مقصد ہووے ہے حاصل
جو زلفیں اس کی درہم ہیں مرا بھی کام برہم ہے
میر تقی میر