جو صحن خانہ میں تو ہو در و دیوار عاشق ہو

دیوان چہارم غزل 1470
عجب گر تیری صورت کا نہ کوئی یار عاشق ہو
جو صحن خانہ میں تو ہو در و دیوار عاشق ہو
تجھے اک بار اگر دیکھے کوئی بے جا ہو دل اس کا
خرام ناز پر تیرے لٹا گھر بار عاشق ہو
تری چھاتی سے لگنا ہار کا اچھا نہیں لگتا
مباد اس وجہ سے گل رو گلے کا ہار عاشق ہو
ہوا ہے مخترع بے رحم خوں ریزی بھی کرنے میں
نہ مارے جان سے جب تک نہ منت دار عاشق ہو
سزا ہے عشق میں زرد و زبون و زار ہی ہونا
نہ عاشق کہیے ان رنگوں نہ جو بیمار عاشق ہو
پڑے سایہ کسو کا تیرے بستر پر تو تو چونکے
وہی لے کام تجھ سے جو کوئی پرکار عاشق ہو
نہیں بازار گرمی ایک دو خواہندہ پر اس کی
اگر وہ رشک یوسف آوے تو بازار عاشق ہو
غریبوں کی تو پگڑی جامے تک لے ہے اتروا تو
تجھے اے سیم بر لے بر میں جو زردار عاشق ہو
لگو ہو زار باراں رونے چلتے بات چاہت کی
کہیں ان روزوں تم بھی میر صاحب زار عاشق ہو
میر تقی میر