جس سے پیار رکھے ہے کچھ یہ اس کے سر پر شامت ہے

دیوان پنجم غزل 1776
عشق بلاانگیز مفتن یہ تو کوئی قیامت ہے
جس سے پیار رکھے ہے کچھ یہ اس کے سر پر شامت ہے
موسم گل میں توبہ کی تھی واعظ کے میں کہنے سے
اب جو رنگ بہار کے دیکھے شرمندہ ہیں ندامت ہے
شیخ کی ادنیٰ حرکت بھی میں خرق عادت جانوں ہوں
مسجد سے میخانے آیا یہ بھی اس کی کرامت ہے
ایک طرف میں عشق کیا تھا رسوائی یہ کہاں سے ہوئی
اب جو گھر سے نکل آتا ہوں چاروں طرف سے ملامت ہے
تو ہی کر انصاف صبا ٹک باغوں باغوں پھرے ہے تو
روے گل اس کا ساروہے سرو کا ایسا قامت ہے
صبح کو خورشید اس کے گھر پر طالع ہوکر آتا ہے
دیکھ لیا جو ان نے کبھو تو اس سادہ کی شامت ہے
چھوڑو اس اوباش کا ملنا ورنہ سر کٹوائوگے
چاہ رہو گے بہتیروں کو سر جو میر سلامت ہے
میر تقی میر