جاے شراب پانی بھریں گے سبو کے بیچ

دیوان چہارم غزل 1373
گل منعکس ہوئے ہیں بہت آب جو کے بیچ
جاے شراب پانی بھریں گے سبو کے بیچ
ستھرائو کردیا ہے تمناے وصل نے
کیا کیا عزیز مر گئے اس آرزو کے بیچ
بحث آپڑے جو لب سے تمھارے تو چپ رہو
کچھ بولنا نہیں تمھیں اس گفتگو کے بیچ
ہم ہیں قلندر آکر اگر دل سے دم بھریں
عالم کا آئینہ ہے سیہ ایک ہو کے بیچ
گل کی تو بو سے غش نہیں آتا کسو کے تیں
ہے فرق میر پھول کی اور اس کی بو کے بیچ
میر تقی میر