جاں بہ لب رہتے ہیں پر کہتے نہیں ہیں حال کچھ

دیوان دوم غزل 945
آوے کہنے میں رہا ہو غم سے گر احوال کچھ
جاں بہ لب رہتے ہیں پر کہتے نہیں ہیں حال کچھ
بے زری سے داغ ہیں لیکن لبوں پر مہر ہے
کہیے حاجت اپنی لوگوں سے جو وے ہوں مال کچھ
کام کو مشکل دل پر آرزو نے کردیا
یاس کلی ہوچکے تو پھر نہیں اشکال کچھ
دل ترا آیا کسو کے پیچ میں جو سدھ گئی
متصل بکھرے رہا کرتے ہیں منھ پر بال کچھ
ماہ سے ماہی تلک اس داغ میں ہیں مبتلا
کیا بلاے جان ہے میرا تمھارا حال کچھ
ایک دن کنج قفس میں ہم کہیں رہ جائیں گے
بے کلی گل بن بہت رہتی ہے اب کے سال کچھ
کیا اس آتش باز کے لونڈے کا اتنا شوق میر
بہ چلی ہے دیکھ کر اس کو تمھاری رال کچھ
میر تقی میر