جان و ایمان و محبت کو دعا کرتے ہیں

دیوان اول غزل 292
کہیو قاصد جو وہ پوچھے ہمیں کیا کرتے ہیں
جان و ایمان و محبت کو دعا کرتے ہیں
عشق آتش بھی جو دیوے تو نہ دم ماریں ہم
شمع تصویر ہیں خاموش جلا کرتے ہیں
جائے ہی نہ مرض دل تو نہیں اس کا علاج
اپنے مقدور تلک ہم تو دوا کرتے ہیں
اس کے کوچے میں نہ کر شور قیامت کا ذکر
شیخ یاں ایسے تو ہنگامے ہوا کرتے ہیں
بے بسی سے تو تری بزم میں ہم بہرے بنے
نیک و بد کوئی کہے بیٹھے سنا کرتے ہیں
رخصت جنبش لب عشق کی حیرت سے نہیں
مدتیں گذریں کہ ہم چپ ہی رہا کرتے ہیں
تو پری شیشے سے نازک ہے نہ کر دعوی مہر
دل ہیں پتھر کے انھوں کے جو وفا کرتے ہیں
تجھ سے لگ جاکے یہ یوں جاتے رہیں مجھ سے حیف
دیدہ و دل نے نہ جانا کہ دغا کرتے ہیں
فرصت خواب نہیں ذکر بتاں میں ہم کو
رات دن رام کہانی سی کہا کرتے ہیں
مجلس حال میں موزوں حرکت شیخ کی دیکھ
حیز شرعی بھی دم رقص مزہ کرتے ہیں
یہ زمانہ نہیں ایسا کہ کوئی زیست کرے
چاہتے ہیں جو برا اپنا بھلا کرتے ہیں
محض ناکارہ بھی مت جان ہمیں تو کہ کہیں
ایسے ناکام بھی بیکار پھرا کرتے ہیں
تجھ بن اس جان مصیبت زدہ غم دیدہ پہ ہم
کچھ نہیں کرتے تو افسوس کیا کرتے ہیں
کیا کہیں میر جی ہم تم سے معاش اپنی غرض
غم کو کھایا کریں ہیں لوہو پیا کرتے ہیں
میر تقی میر