جان عزیز گئی ہوتی کاش اب کے سال بہار کے ساتھ

دیوان پنجم غزل 1718
ہائے ستم ناچار معیشت کرنی پڑی ہر خار کے ساتھ
جان عزیز گئی ہوتی کاش اب کے سال بہار کے ساتھ
کس آوارئہ عشق و جنوں کی اک مٹھی اب خاک اڑی
اڑتی پھرے ہے پس محمل جو راہ کے گرد و غبار کے ساتھ
وہ لحظہ نہیں جاتا جی سے آنکھ لڑی تھی جب اس سے
چاہ نکلتی تھی باتوں سے چتون بھی تھی پیار کے ساتھ
جی مارے شب مہ میں ہمارے قہر کیا مشاطہ نے
بل کھائے بالوں کو دیے بل اس کے گلے کے ہار کے ساتھ
کیا دن تھے جو ہم کو تنہا کہیں کہیں مل جاتا تھا
اب تو لگے ہی رہتے ہیں اغیار ہمارے یار کے ساتھ
ہم ہیں مریض عشق و جنوں سختی سے دل کو مت توڑو
نرم کرے ہیں حرف و حکایت اہل خرد بیمار کے ساتھ
دیدئہ تر سے چشمۂ جوشاں ہیں جو قریب اپنے واقع
تو ہی رود چلے جاتے ہیں لگ کر جیب و کنار کے ساتھ
دیر سے ہیں بیمار محبت ہم سے قطع امید کرو
جانیں ہی جاتی دیکھی ہیں ہم نے آخر اس آزار کے ساتھ
رونے سے سب سر بر آئے خاک ہمارے سر پر میر
مدت میں ہم ٹک لگ بیٹھے تھے اس کی دیوار کے ساتھ
میر تقی میر