جاتی ہیں یوں ہی ناداں جانیں ترس ترس کر

دیوان دوم غزل 809
آ ہم نشیں کسو کے مت عشق کی ہوس کر
جاتی ہیں یوں ہی ناداں جانیں ترس ترس کر
فرصت سے اس چمن کی کل روکے میں جو پوچھا
چشمک کی ایک گل نے میری طرف کو ہنس کر
ہم موسے ناتواں تھے سو ہوچکے ہیں کب کے
نکلے ہو تم پیارے کس پر کمر کو کس کر
جی رک گیا کہیں تو پھر ہوئے گا اندھیرا
مت چھیڑ ابر مجھ کو یوں ہی برس برس کر
کیا ایک تنگ میں ہوں اس زلف پرشکن سے
اس دام میں موئے ہیں بہتیرے صید پھنس کر
اک جمع کے سر اوپر روز سیاہ لایا
پگڑی میں بال اپنے نکلا جو وہ گھڑس کر
اس قافلے میں کوئی دل آشنا نہیں ہے
ٹکڑے گلے کے اپنے ناحق نہ اے جرس کر
صیاد اگر اجازت گلگشت کی نہیں ٹک
دیوار باغ کو تو بارے درقفس کر
بے بس ہے میر تجھ بن رہتا نہیں دل اس کا
ٹک تو بھی اے ستم جو جور و ستم کو بس کر
میر تقی میر