جاتا ہے کچھ ڈھہا ہی خانہ خراب اب دل

دیوان پنجم غزل 1674
رکھتا نہیں ہے مطلق تاب عتاب اب دل
جاتا ہے کچھ ڈھہا ہی خانہ خراب اب دل
درد فراق دلبر دے ہے فشار بے ڈھب
ہوجائے جملگی خوں شاید شتاب اب دل
بے پردہ اس کی آنکھیں شوخی جو کرتیاں ہیں
کرتا ہے یہ بھی ترک شرم و حجاب اب دل
آتش جو عشق کی سب چھائی ہے تن بدن پر
پہلو میں رہ گیا ہے ہوکر کباب اب دل
غم سے گداز پاکر اس بن جو بہ نہ نکلا
شرمندگی سے ہو گا اے میر آب اب دل
میر تقی میر