تیغ نے اس کی کیا ہے قسمت یہ بھی ہے قسمت کی بات

دیوان پنجم غزل 1585
چپکے کھڑا ٹکڑے ہوتا ہوں ساری ہے الفت کی بات
تیغ نے اس کی کیا ہے قسمت یہ بھی ہے قسمت کی بات
جان مسافر ہو جائے گی لب پر ہے موقوف آہ
سب کچھ کہیو جاتے ہوئے تم مت کہیو رخصت کی بات
کہہ کے فسانہ عشق و وفا کا لوگ محبت کرتے تھے
اب وہ ناز کہانی ان کی گویا ہے مدت کی بات
درد و غم کی گرفتاری سے مہلت ہو تو کچھ کہیے
حرف زدن اشعار شعاری یہ سب ہے فرصت کی بات
کس کو دماغ جواب رہا ہے ضعف سے اب خاموش رہے
پہروں بکتا نصیحت گر سے میر یہ ہے طاقت کی بات
میر تقی میر