تیغ قاتل کو سر چڑھائوں گا

دیوان پنجم غزل 1545
طوف مشہد کو کل جو جائوں گا
تیغ قاتل کو سر چڑھائوں گا
وصل میں رنگ اڑ گیا میرا
کیا جدائی کو منھ دکھائوں گا
چھانتا ہوں کسی گلی کی خاک
دل کو اپنے کبھو تو پائوں گا
اس کے در پر گئے ہیں تاب و تواں
گھر تلک اپنے کیوں کے جائوں گا
لوٹتا ہے بہار منھ کی خط
میر میں اس پہ زہر کھائوں گا
میر تقی میر