تیری گلی میں لائی صبا تو بجا ہوا

دیوان پنجم غزل 1546
ہر جا پھرا غبار ہمارا اڑا ہوا
تیری گلی میں لائی صبا تو بجا ہوا
آہ سحر نے دل کی نہ کھولی گرہ کبھی
آخر نسیم سے بھی یہ غنچہ نہ وا ہوا
وے میر اثر جو شورش دل میں تھے ہیں کہاں
نالے کیے جرس نے بہت سے تو کیا ہوا
میر تقی میر