تیرا کوچہ ہم سے تو کہہ کس کی بسمل گاہ ہے

دیوان اول غزل 528
شش جہت سے اس میں ظالم بوے خوں کی راہ ہے
تیرا کوچہ ہم سے تو کہہ کس کی بسمل گاہ ہے
ایک نبھنے کا نہیں مژگاں تلک بوجھل ہیں سب
کاروان لخت دل ہر اشک کے ہمراہ ہے
ہم جوانوں کو نہ چھوڑا اس سے سب پکڑے گئے
یہ دوسالہ دختر رز کس قدر شتاہ ہے
پابرہنہ خاک سر میں موپریشاں سینہ چاک
حال میرا دیکھنے آ تیرے ہی دلخواہ ہے
اس جنوں پر میر کوئی بھی پھرے ہے شہر میں
جادئہ صحرا سے کر سازش جو تجھ سے راہ ہے
میر تقی میر