تہ خاک بھی خاک آرام ہو گا

دیوان اول غزل 80
جو یہ دل ہے تو کیا سر انجام ہو گا
تہ خاک بھی خاک آرام ہو گا
مرا جی تو آنکھوں میں آیا یہ سنتے
کہ دیدار بھی ایک دن عام ہو گا
نہ ہو گا وہ دیکھا جسے کبک تو نے
وہ اک باغ کا سرو اندام ہو گا
نہ نکلا کر اتنا بھی بے پردہ گھر سے
بہت اس میں ظالم تو بدنام ہو گا
ہزاروں کی یاں لگ گئیں چھت سے آنکھیں
تو اے ماہ کس شب لب بام ہو گا
وہ کچھ جانتا ہو گا زلفوں میں پھنسنا
جو کوئی اسیر تہ دام ہو گا
جگرچاکی ناکامی دنیا ہے آخر
نہیں آئے جو میر کچھ کام ہو گا
میر تقی میر