تڑپا ہزار نوبت دل ایک ایک دم میں

دیوان دوم غزل 878
کیا کوفتیں اٹھائیں ہجراں کے درد وغم میں
تڑپا ہزار نوبت دل ایک ایک دم میں
گو قیس منھ کو نوچے فرہاد سر کو چیرے
یہ کیا عجب ہے ایسے ہوتے ہیں لوگ ہم میں
اہل نظر کسو کو ہوتی ہے محرمیت
آنکھوں کے اندھے ہم تو مدت رہے حرم میں
کلفت میں گذری ساری مدت تو زندگی کی
آسودگی کا منھ اب دیکھیں گے ہم عدم میں
کرتے ہیں میر مل کر واعظ سے حبس دم کا
کیا یہ بھی آگئے ہیں اس پوچ گو کے دم میں
میر تقی میر