تو کہیو جب چلا ہوں میں تب اس کا جی نکلتا تھا

دیوان اول غزل 156
جواے قاصد وہ پوچھے میربھی ایدھر کو چلتا تھا
تو کہیو جب چلا ہوں میں تب اس کا جی نکلتا تھا
سماں افسوس و بیتابی سے تھا کل قتل کو میرے
تڑپتا تھا ادھر میں اور ادھر وہ ہاتھ ملتا تھا
میر تقی میر